نعت
نعت
ظلمت نہ تیرگی ہے محمد کے شہر میں
ہر سمت روشنی ہے محمد کے شہر میں
ورنہ حیات و موت ہیں یکساں زمین پر
دراصل زندگی ہے محمد کے شہر میں
کشکول لے کے جلد پہنچیے نیاز مند
خیرات بٹ رہی ہے محمد کے شہر میں
شہروں میں کوئی شہر ہے جنت کہیں جسے؟
یہ بات واقعی ہے محمد کے شہر میں
جب خود حضورِ پاک کا روضہ وہیں پہ ہے
پھر اور کیا کمی ہے محمد کے شہر میں؟
رحمت کی ہاے بادِ بہاری چہار سمت
ہر وقت چل رہی ہے محمد کے شہر میں
زائر تو اس میں ڈوب کے اک بار دیکھنا
دریائے بے خودی ہے محمد کے شہر میں
جبکہ کہا گیا تھا کہ ہم لا علاج ہیں
ہم کو شفا ملی ہے محمد کے شہر میں
جی چاہتا ہے تن سے میں پرواز کر چلوں
یہ روح کہہ رہی ہے محمد کے شہر میں
ہر دل دھڑک رہا ہے بہت زور زور سے
ہر رخ پہ تازگی ہے محمد کے شہر میں
عقل و خرد ہیں محوِ تماشا یہ دیکھ کر
کھویا ہر آدمی ہے محمد کے شہر میں
جا کر نسیم خان وہیں بیٹھ جائیے
پر نور ہر گلی ہے محمد کے شہر میں
نسیم خان
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں