غزل

                            غزل

شمع کی طرح ہم نے پگھل کر نہیں سوچا
حالات کے بارے میں مَچل کر نہیں سوچا

حالانکہ براہیم کی سنت تھی بغاوت
ہم نے کبھی میداں میں نکل کر نہیں سوچا

جبکہ یہ منافی بھی نہیں امن و اماں کے
سانچہ میں کبھی جنگ کے ڈھل کر نہیں سوچا

اسرارِ خودی آپ پہ پھر خاک کھلیں گے؟
مقتل کی طرف آپ نے چل کر نہیں سوچا

اب قعرِ مذلت میں پڑا سوچ رہا ہوں
کیوں شعلہء افکار میں جل کر نہیں سوچا؟

 کیوں ہم سے ہے روٹھی ہوئی تقدیر ہماری ؟
ہاتھوں کی لکیروں کو مسل کر نہیں سوچا

تاریخ بدلنے کے لیے کیا ہے ضروری؟؟
غفلت کی کبھی چال بدل کر نہیں سوچا

ہم آج بھی اس واسطے قدموں پہ پڑے ہیں 
تھا کس نے گرایا یہ سنبھل کر نہیں سوچا؟

نسیم خان

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

filistin فلسطین