غزل

                    غزل 

ہے منہ میں ہمارے زباں کس لیے؟
نہیں کرتے ہم حق بیاں کس لیے؟

مِرے سر کو اس پر سجا دیجیے
ہے محروم نوکِ سناں کس لیے؟

کبھی رونے دھونے سے بدلے ہیں دن؟
لبوں پر یہ آہ و فغاں کس لیے؟

 کرو اس میں جینے کے ساماں کرو
زمیں پر ہو زندہ جواں کس لیے؟

میاں ہم ہیں درویش پیدائشی
یہ دولت،یہ عزت، مکاں کس لیے؟

ہُوا کیا ہے جشنِ بہاراں میں بھی
پریشاں ہیں زندہ دلاں کس لیے ؟

تعلق ہے جب اپنا ایمان کا 
تکلف ہے پھر درمیاں کس لیے؟

اگر ہو مسلماں تو ثابت کرو
زمیں پر ہو بارِ گراں کس لیے؟

کبھی ہم نے سوچا،،خدا نے دیے
یہ گھر بار،یہ مال و جاں کس لیے؟

لگا لی ہے لَو جس نے سرکار سے
کرے پھر وہ عشقِ بتاں کس لیے؟

نسیم خان

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

filistin فلسطین