ورثہ میں صرف دو حقیقی بھائی موجود ہوں تو ان کے درمیان ترکہ کی تقسیم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام مسئلہ ذیل میں کہ ایک صاحب کا انتقال ہوا جن کا نام عبدالکریم ہے
ان کوبیوی بچے نہیں ہے
ماں باپ بھی موجود نہیں ہیں
صرف حقیقی دو بھائی ہیں
اب اس میت کی میراث کیسے تقسیم کریں جبکہ میت کا پورا مال دو لاکھ روپے ہے
میت کی طرف سے اس مال میں سے کچھ صدقہ بھی کرسکتے ہیں ؟
بینوا تؤجروا ۔
سائل :
ابو یحییٰ حضور نگر۔
الجواب بعون الملک الوھاب: بر تقدیر صحت سوال واداے حقوقِ متقدمہ علی الارث: یعنی تجہیز وتکفین، ادائیگی قرض اور ثلث مال میں نفاذ وصیت کے بعد مرحوم کی کل منقولہ وغیر منقولہ جائیداد کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ہر بھائ کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔ سوال میں مذکور رقم میں سے ہر ایک بھائ کو ایک ایک لاکھ روپے ملے گا ۔
تقسیم ترکہ سے قبل میت کی کسی چیز کا خیرات کرنا جائز نہیں ، ترکہ کی ہر چیز میں ہر وارث کا حق ہے ، تقسیم کے بعد جو وارث جتنا چاہے خیرات کرے۔ البتہ اگر سارے ورثاء بالغ ہوں اور سب آپس کی رضامندی سے کوئی چیز صدقہ کرنا چاہیں تو اس کی گنجائش ہے (احسن الفتاوی ٣١٢/٩)۔
"واصلہ وجزء ابیہ وجزء جدہ کذا فی التبیین فاقرب العصبات ، الابن ثم ابن الابن وان سفل ثم الاب ثم الجد اب الاب وان علا ، ثم الاخ لاب وام" ( ھندیہ ٥٠١/٦ )
"جزء المیت واصلہ وجزء ابیہ وجزء جدہ الاقرب فالاقرب ۔۔۔۔۔۔۔ثم جزء ابیہ ای الاخوۃ ثم بنوھم وان سفلوا " (السراجی فی المیراث ص ٣٦ )
" وعن سعد بن عبادۃ قال یارسول اللہ ان ام سعد ماتت فای الصدقۃ افضل ؟ قال "الماء" فحفر بئرا وقال ھذہ لام سعد رواہ ابو داؤد والنسای (مشکوۃ المصابیح کتاب الزکاۃ باب فضل الصدقۃ۔ )
"کما ان اعیان المتوفی المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصھم" (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز ، کتاب الشرکۃ ۔ بحوالہ کتاب النوازل ٢٠١/١٨)
لایجوز التصرف فی مال غیرہ بلااذنہ (الدر المختار ٢٩١/٩)
کتبہ محمد صبغت اللہ قاسمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں