اس پر ہے مجھے ناز کہ میں خاک نشیں ہوں
کہتے ہیں لئیق آپ کہ میں عرش بریں ہوں
اس پر ہے مجھے ناز کہ میں خاک نشیں ہوں
ہرگز نہ کہوں گا کہ میں فردوس بریں ہوں
ایک بندۂ ناچیز ہوں اور گرد زمیں ہوں
کیا بات ہے کیوں دین کا پابند نہیں ہوں
کیا واقعی اللہ پہ رکھتا میں یقین ہوں
اسلاف سے نسبت نہیں کچھ بھی مجھے واللہ
وہ اور کہیں رہتے تھے، میں اور کہیں ہوں
کیا دین کے اسرار میں سمجھوں گا غلط ہے
رکھتا جو نہیں علم یقیں حق یقیں ہوں
کیا جانوں میں کیا چیز ہے ایمان کی لذت
جب خنجر تسلیم سے گھائل میں نہیں ہوں
کیوں انتم الاعلون کےوعدے سے ہوں محروم
افسوس کہ ایمان میں کامل میں نہیں ہوں
اغیار سے کیوں روشنی کرتے ہیں طلب ہم
قرآن یہ کہتا ہے کہ میں نور مبیں ہوں
مولا تیری رحمت سے میں جنت کا ہوں طالب
سچ تو یہ ہے دوزخ کے بھی قابل میں نہیں ہوں
یہ دل کی ہے آواز جو آتی ہے زباں پر
توبہ کرے کیا کہتے ہیں، شاعر میں نہیں ہوں
احمد تو کہاں ہے یہ ذرا مجھ کو بتا دے
مدت سے پتہ تیرا جو پاتا میں نہیں ہوں
بندہ ہوں میں اللہ کا ،محتاج ہوں احمد
کس منہ سے کروں ناز کہ میں بار زمیں ہوں
حضرت مولانا احمد پرتاب گڑھی رحمۃ اللہ علیہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں