ترانہ الجامعۃ العربیۃ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی بہار
ترانہ الجامعۃ العربیۃ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی بہار
نتیجہ ٔ فکر
حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی حفظہ اللہ مدھوراپوری سیتامڑھی بہارحال مقیم حیدرآباد
*استاد حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد*
یہ علم وادب کا مخزن ہے، یہ اہلِ وفا کا مسکن ہے
ہر قطرہ یہاں کا دریا ہے ہر پھول یہاں کا گلشن ہے
مرکز ہے علومِ قرآن کا گلشن ہے علومِ نبوی کا
ہررند یہاں کا شاہد ہے٬ ساقی کی کشادہ ظرفی کا
سیرابیٔ امت کی خاطر اک بادۂ علم و نور ہے یہ
ہرجہل وضلالت کی خاطر اک جلوۂ کوہِ طور ہے یہ
سرگرمِ عمل ہے آج تلک٬ رفعت میں زمیں سے تا بفلک
ہر سمت سے ظاہر ہوتی ہے٬ اسلاف کی وہ روحانی جھلک
جاری ہے یہاں پر برسوں سے٬ فیضانِ نبی کا میخانہ
گردش میں ہمیشہ رہتا ہے٬ صوفی کا یہ جام و پیمانہ
میخوارِ حکیم الامت کے٬ اس درد کی اک تصویر ہے یہ
دیکھا جو عزیز وواعظ نے٬ اُس خواب کی اک تعبیر ہے یہ
طیب کی نوائے سَحَری سے پُردم ہے نفوسِ عرفانی
خِیرہ ہے گلوں کی تابش سے٬ باطل کی نگاہِ طغیانی
ہے شانِ زبیر احمد سے عیاں٬ اس باغ میں حُسن و رعنائی
وہ جن کے تفقُّہ کی دُھن سے٬ گلشن میں ہے ذوقِ دانائی
ہیں شمعِ چمن اظہار الحق٬ ہر بُلبل وگل ہے پروانہ
ساحِل کی طلب نے سکھلایا٬ ہرموجِ ستم سے ٹکرانا
اس خاکِ چمن کا ہر ذرہ٬ بنتا ہے چمک کر آفاقی
ہررنگ میں روشن ہے اب تک گلشن میں چراغِ اسحاقی
ہر ذہنِ رَسا کو ملتا ہے٬ گلشن میں مذاقِ اِدراکی
کُھلتا ہے ہر اک پر رازِ نِہاں٬ ملتا ہے متاعِ بیباکی
اس وادیٔ ایمن میں آکر٬ پاتا ہے سُکوں ہر قلبِ حزیں
پھر اس سے نکل کر عالم میں دیتا ہے سدا پیغامِ یقیں
مستُور ہے اس کے سینے میں٬ وہ سازِ عجم وہ سوزِعرب
مشرق کی فضا سے مغرب تک٬ پھیلی ہے یہاں کی بوۓ ادب
بٹتا ہے سراپا علم و یقیں اس علمی چمن میں شام و سحر
تیار ہوۓ ہوتے ہی رہیں اربابِ ہنر اصحابِ نظر
بافیض ہے باغِ رمضانی پُرکیف ہے ذوقِ وجدانی
بیدار ہواکرتا ہے یہاں ہر لمحہ شعورِ ایمانی
اس بحرِ ہدی سے نکلے ہیں نکلیں گے ہزاروں لعل و گہر
چمکے ہیں جہاں میں چمکیں گے٬ مانندِ ضیاءِ شمس و قمر
نادم کی دعا ہے اشرف کا٬ فیضان٬ ابد تک عام رہے
انعامِ خدا کا ابرِ کرم ہر صُبح رہے ہر شام رہے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں