ترانہ دعوہ اسلامک اکیڈمی حیدرآباد

*ترانہ : دعوہ اسلامک اکیڈمی حیدرآباد* 
*حسب ایما*: مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب
 *کلام : حضرت مولانا محمد انوار الحق نادم قاسمی صاحب حفظہ اللہ سیتامڑھی بہار استاد حدیث مدرسہ عبداللہ بن مسعود حیدرآباد*

یہ علمی چمن ، ہے رشک زمن ، یہ مظہر شان أرض دکن
یہ مخزن اہل علم وادب ، یہ اہل عزیمت کا مسکن

اس خاک کے ذرے کو نسبت ، ہے شاہ مدینہ کی حاصل
فیضان نبوت کے صدقے ،بنتے ہیں یہاں ناقص، کامل

کردار ‌نبی ،أصحاب نبی کا سوز یہاں اور ساز یہاں
ملتا ہے طلب والوں کو سدا، گفتار یہاں پرواز یہاں

پیغامِ حدیث وقرآنی، اسرار و رموز حقانی
ہر ذہن رسا کو ملتا ہے اس در سے حیات عرفانی

ہے فکر حجاز وطیبہ سے، معمور در و دیوارچمن
اس فکر کی قوت سے اس نے، بدلا ہے جہاں کا نقش کہن

ظاہر میں ہے سادہ یہ گلشن، باطن میں ہے یہ اک حصن حصیں
محرومِ طلب نے بھی پایا، أسلوب وفا ۓ اہل یقیں

ہر اہل بصیرت کو اس میں ، ملتا ہے شعور ایمانی
مہمان رسول عربی پر، بن کر ہے یہ ظل رحمانی

میدانِ عمل میں استغنا ، کی دولت سے ممتاز ہیں ہم
مرعوب ہے جس سے سارا جہاں ، فطرت کی وہی آواز ہیں ہم

ہارے ہیں ، نہ ہمت ہاریں گے ، طوفانوں سے ٹکرانے میں
ہیں حق کے علمبردار ابھی، بیدار اسی میخانے میں

موجوں کی طرح ہم بڑھ بڑھ کر ، منزل کی طلب میں رہتے ہیں
آنکھوں میں یقییں کا نور لیے، ہر دشت وجبل میں چلتے ہیں

باطل کے تعاقب میں ہردم ،اک سعلۂ رستا خیز ہیں ہم
اور حق کے طلب گاروں کیلئے ، شبنم ذوقِ انگیز ہیں ہم

قطرہ سے بنے ہیں ہم دریا، دریا سے بنیں گے سیل رواں
صدیق کے عالی جذبوں سے ، پایا ہے یہ ہم نے عزم جواں

احمد کی دعا سے قائم ہے ، یہ بزم جنوں یہ بزم وفا
بڑھتی رہی روز افزوں اس کی ، امید طلب امید ضیا

دعوہ کے فیوض علمی سے ، روشن ہے سنہرا باب یہاں
اس نوری فضامیں ذرے بھی بن جاتے ہیں مہتاب یہاں

سینچا ہے مصدق نے دیکر ،اس باغ کو اپنا خون جگر
بانی کے دعاء سحری سے ، پردم رہے بزم علم وہنر

یہ "دعوۂ اسلامک" نادم بافیض رہے ، شاداب رہے
پرنور رہے یہ شمع ہدی ہر رنگ میں عالم تاب رہے

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

filistin فلسطین