نعت شریف
کلام: افضال صدیقی
مسلمانوں کا شیوہ ہے محمد سے وفا کرنا
نماز عشق تلواروں کے سائے میں ادا کرنا
ہمیں ایمان کا مطلب بس اتنا ہی سمجھ آیا
رسولِ پاک کی حرمت پہ تن من دھن فدا کرنا
جسے کٹنا نہیں آتا ہے ناموسِ رسالت پر
بدن پر بوجھ ہے وہ سر اٹھا کے بوجھ کیا کرنا
نصاب دین کا پہلا باب ہی عشق رسالت ہے
مقام مصطفیٰ سے ہے جہاں کو آشنا کرنا
رحیم ان سا کریم ان سا ہوا نہ تا ابد ہوگا
کہ ان کی شان رحمت ہے بروں سے بھی بھلا کرنا ہے
رگوں میں خون کی صورت رواں ان کی محبت ہے
یہ وہ لافانی جذبہ ہے نہیں ممکن فنا کرنا
کہا قرآن نے مالک ملائک کی یہ سنت ہے
نبی کے نام نامی کو نذر صل علی کرنا
سنہری خلق احمد سے ہوی تاریخ انسانی
ستم سہ کر ستم گر کی ہدایت کی دعا کرنا
اگر حب نبی میں آزمائش کی گھڑی آے
دعا افضال کی مولا ہمیں ثابت قدم رکھنا
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں