غیر منقوط نظم بہ عنوان مدرسہ
بقلم: مفتی عبدالتواب عاشقؔ اناوی
عالم کےہر مکاں کو ہےدرکار مدرسہ
اسلام کا سدا ہے مدد گار مدرسہ
ہے عسکرِ رسول کا سالار مدرسہ
ہر طور سے ہمارا ہے دلدار مدرسہ
اللہ کی عطا سے ملا وہ کمال ہے
کھولے ہےسارےدہر کےاسرار مدرسہ
عالم کو دےرہا ہےوہ اسوہ رسول کا
اسلام کے محل کا ہے معمار مدرسہ
اللہ کے کلام کے اوراد کے علل
ہے ہر گہِ دروس کا سردارمدرسہ
معطی رہا ہے دہر کو اہل کرم کا وہ
اعلیٰ رہا مدام ہے کردار مدرسہ
ہر اک طرح سے ملک کےاکرام کےلئے
دائم رہا ہے معطیِ احرار مدرسہ
اللہ کا کرم ہی سدا ہے اسی لئے
اعدا کا سہ رہا ہے ہر اک وار مدرسہ
ہر گھر ہی آدمی کا ہوا درس گاہ ہے
مسمار کر دے دوڑ کے سرکار مدرسہ
ہر درس گاہِ دہر ہوئی کام کی مگر
علم و عمل کی حرص کا ہےدار مدرسہ
ہر آدمی کے واسطے دارُالصلاح ہے
ہے احمدی علوم کا کہسار مدرسہ
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں