مولوی صادق سنبھلی صاحب

٢٧ اگست ٢٠٢٢ ء =مطابق ٢٨ محرم الحرام ١٤٤٤ھ کو جناب صادق صاحب نے مرادآباد ریلوے اسٹیشن پر خودکشی کرلی اس حادثے نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا اس واقعہ کے رونما ہونے کے بعد شوشل میڈیا پر ایک طوفان آگیا کوی مساجد ومدارس کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے تو کوی ذہنی توازن برقرار نہ رہنے کی بات کہہ رہا ہے جتنے منہ اتنی باتیں سننے اور پڑھنے میں آرہا ہے ۔حالات کیسے بھی ہوں انسان کو ایسا قدم نہیں اٹھانی چاہیے جو شریعت میں حرام اور ناقابل معافی جرم ہو ، جنہوں نے مدارس ومساجد کے صدورونظماء کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آج کل اکثر وبیشتر صدورونظماء اچھی خاصی رقم ہونے کے باوجود اساتذہ اور امام کی تنخواہ کم رکھتے ہیں اور عموماً وقت پر نہیں دیتے ہیں جبکہ عمارت بنانے کیلئے اور اپنی ضروریات کیلئے رقم خوب موجود رہتی ہے اس لیے مساجد ومدارس کے صدورونظماء کو چاہیے کہ اساتذہ وغیرہ کی ضروریات کا مکمل خیال رکھیں اور نمائش کیلئے عمارت بنانے سے بہتر ہے اساتذہ وملازمین پر دل کھول کر خرچ کریں اور تنخواہ تو ہر ممکن کوشش یہ ہو کہ وقت پر ادا کریں کیوں کہ مدرسہ عمارت کا نام نہیں ہے مدرسہ تو اصل طلبہ اور اساتذہ کا نام ہے جب اساتذہ کی تنخواہ وقت پر نہیں ملے گی اور طلبہ کو صحیح کھانا پینا نہیں دیا جائے گا تو ذہنی الجھنوں میں مبتلا ہونگے اور ذہنی وقلبی اطمینان کے بغیر افہام وتفہیم ممکن نہیں ،رہی بات صادق صاحب کی تو ان کے بارے میں جو معلومات ہوی ہے وہ یہ ہے کہ موصوف کی تنخواہ تقریبا بیس ہزار ہوجاتی تھی اور اتنے میں ایک متوسط طبقہ آسانی سے گزر بسر کر سکتا ہے اور ان کی خودکشی کی اصل وجہ ذہنی توازن کا برقرار نہ رہنا ہے اسلیے فوراً کسی پر یہ الزام عائد کردینا بھی مناسب نہیں ہے کہ بلا وجہ کے مدرسہ سے نکال دینا اور مقتدیوں کے ناروا سلوک نے انہیں ایسا قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے
بس اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ان کی مغفرت فرمائے اور پس ماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور گزر بسر کا انتظام فرمائے اور مدارس کے نظماء اور مساجد کے صدور کو صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اپنے ماتحت اساتذہ وعملہ اور امام کی قدردانی کی توفیق بخشے آمین
ازقلم: محمد صبغت اللہ قاسمی 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

filistin فلسطین