دوبیٹے بیوی اور ماں کے درمیان ترکہ کی تقسیم
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ رحمت علی کا انتقال ہوگیا اور اس نے اپنے پیچھے وارثین میں ١/بیوی,ماں اور ٢/بیٹا چھوڑا ہے اور مال متروکہ ١٢٠٠٠٠ (ایک لاکھ بیس ہزار روپے) ہیں وارثین کے درمیان شرعی تقسیم فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔ المستفتی محمد انوار الحق قاسمی حیدرآباد
الجواب وباللہ التوفیق:بشرط صحت سوال وبعد اداے حقوقِ متقدمہ علی الارث وعدم موانع ارث : مرحوم کی کل جایداد منقولہ وغیر منقولہ کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جاے گا اس کے بعد مرحوم کی ماں کو 6/چھٹھاحصہ ,مرحوم کی بیوی کو 8/ آٹھواں حصہ اور ہر بیٹے کو 17/سترہ سترہ حصے دیا جائے گا ،سوال میں ذکر کردہ رقم میں ماں کو بیس ہزار (20000)، بیوی کو پندرہ ہزار ( 15000) اور ہر بیٹے کو بیالیس ہزار پانچ سو روپے( 42500)ملے گا۔فقط
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْۤ اَوْلَادِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ۚ
وَ لِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ
(سورہ النساء 11)
فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ ( سورۃ النساء 12)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد صبغت اللہ قاسمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں