وراثت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسلہ ذیل کے بارے میں کہ راشد صاحب کا انتقال ہوگیا اور اس نے اپنے پیچھے وارثین میں ١/بیوی,ماں اور ٢/بیٹا چھوڑا ہے اور مال متروکہ ١٠٠٠٠٠(ایک لاکھ روپے) ہیں وارثین کے درمیان شرعی تقسیم فرماکر عند اللہ ماجور ہوں ۔
الجواب وباللہ التوفیق:بشرط صحت سوال وبعد اداے حقوقِ متقدمہ علی الارث وعدم موانع ارث : مرحوم کی کل جایداد منقولہ وغیر منقولہ کو 48 حصوں میں تقسیم کیا جاے گا اس کے بعد مرحوم کی بیوی کو 8/آٹھواں حصہ ,مرحوم کی ماں کو 6/ چھٹھا حصہ اور ہر بیٹے کو 17/سترہ سترہ حصے دیا جائے گا ،سوال میں ذکر کردہ رقم میں سے بیوی کوبارہ ہزار پانچ سو (12500)، ماں کو سولہ ہزار چھ سو چھیاسٹھ ( 16666.66) اور ہر بیٹے کو پینتیس ہزار چار سو سترہ روپے( 35417.67)ملے گا۔فقط
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْۤ اَوْلَادِکُمْ ٭ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ ۚ
وَ لِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ
(سورہ النساء 11)
فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَاۤ اَوْ دَیْنٍ ؕ ( سورۃ النساء 12)
واللہ اعلم بالصواب
کتبہ محمد صبغت اللہ قاسمی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں