ساٹھ بھر چاندی تین بھر سونا کی زکوٰۃ

 کیا فرماتے ہیں علماءحق مسئلہ ذیل کے بارے کہ ایک شخص کے پاس ساٹھ بھر چاندی (60) تین بھر سونا (3) ہے تو اس کی زکوٰۃ کتنی ہوگی قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائے 

عین نوازش ہوگی 

المستفتی محمدضمیرالدین عباس کریمی مقیم حال نئی دہلی

الجواب بعون الملک الوھاب: صورت مسؤلہ میں وہ شخص شرعاصاحب نصاب ہے لہذا اس پر زکوٰۃ واجب ہے بہ شرطیکہ اس پر اتنا قرض نہ ہو کہ اسے منہا کرنے کے بعد ساڑھے باون تولہ چاندی (612گرام360ملی گرام) کا مالک نہ رہے ۔اپنے علاقے کی مارکیٹ سے 60 بھر چاندی اور 3 بھر سونا کی قیمت معلوم کرکے مجموعی قیمت کا ڈھای فیصد زکوٰۃ ادا کریں ۔

(نصاب الذہب عشرون مثقالا والفضة مائتا درہم کل عشرة) دراہم (وزن سبعة مثاقیل)....(الدرالمختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 4/ 224،ط: زکریا) (و) یضم (الذہب إلی الفضة) وعکسہ بجامع الثمنیة (قیمة)

(ص:234)

فقط واللہ اعلم بالصواب

حررہ محمد صبغت اللہ قاسمی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

filistin فلسطین