ابابیلوں کی خواہش ہے مگر دل ۔۔۔
ابابیلوں کی خواہش ہے مگر دل ابرہہ والے
ملے غیبی مدد کیسے کہ ہم مکر و دغا والے
زباں پہ ذکرِ مولا ہے ذہن میں فکرِ لیلی ہے
قدم ہیں جانبِ دوزخ بظاہر ہیں خدا والے
ہوس کی پیروی میں ہم ہوئے اس بات سےغافل
ہمارے آباء و اجداد تھے شرم و حیا والے
حقیقت تلخ ہے لیکن حقیقت تو حقیقت ہے
زباں پہ ترکِ دنیا ہے تہہ دل مبتلا والے
ہماری زندگی تو خودنمائی کے بھنور میں ہے
تعلق صالحیں سے ہے عمل پھر بھی خطا والے
عجب رسمِ حماقت ہے ہمارے شہر میں ہُدہُد
عدوئے دیں کہیں خود کو علی اُلمرتضی والے
🍁ہدہد الہ آبادی
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں