ماہ محرم:ہم کچھ بھول رہے ہیں شاید ہیں
🖊احمد بن نذر
آفتاب کی تنک تابیوں کو کیا کہیے؟چاند کی سکوت بھری کرنوں کا کیا کیجیے؟زمین کے چکر کاٹنے اور اپنے محور پہ گھومنے کو کیوں کر ناپیے؟اور افلاک کی ان تھک گردشوں کو کس طرح دیکھیے کہ یہ اس نظامِ کائنات کا حصہ ہیں، جولمحہ بہ لمحہ موجودات کے حصار سے نکل کے اپنی سبک رفتاری کے ساتھ معدوم ہونے کی راہ پر گام زن اور ’’سب کچھ‘‘ ہونے کے شعلۂ جوالہ سے ’’کچھ نہیں‘‘ کے ذرۂ بے نام و نشان میں تبدیل ہونے کی طرف محو سفر ہے۔الٹ پھر،ادل بدل اور ٓنا جانا ہی اس جہان کی حقیقت اور اس کا خاصہ و ماہیت ہے۔پتہ بھی نہیں چلتا کہ ایک لحظہ،ایک پل اور ایک گھڑی کس طرح منٹوں کے دوش پہ سوار گھنٹوں کاروپ دھارے شب وروز کی صورت میں ڈھل کے ہفتہ کے نام سے موسوم ہوتے ہوئے ماہ وسال کی شکل اختیار کرتے چلے گئے۔
دنیا سے ملیے، تو کہیں’’ہیو اَنائس ڈے!‘‘ کی دعائیں آپ کے دامن میں ڈال دی جائیں گی، تو کہیں ’’آپ کا دن منگل مے ہو!‘‘ کے ذریعے نیک خواہشات کا گلدستہ آپ کے حوالے کردیا جائے گا؛ لیکن لگاوٹ،بناوٹ،تصنع،ملمع سازی و آمیزش سے پاک ضابطۂ حیات کا کہنا ہے کہ دن سارے’’شُبھ‘‘ اور مہینے سبھی سعد وسعادت کے ہیں۔نحوست شب وروز میں ہے ، نہ وقت ومحل میں،وجود پذیر تمام واقعات وقت کی کرشمہ سازی نہیں ؛بلکہ ’’مقلبُ الدہر‘‘(زمانوں کے بدلنے والے)کے فرمان عالی شان:’’کُن‘‘ کا نتیجہ ہیں۔
شعور وتعقل کے دریچوں کو واکیجیے، تو گزرے ہوئے ایام سے چھن چھن کے آنے والی یادوں کی کرنیں مہینوں اور دنوں کے جلو میں سمٹی سمٹائی ساتھ چلی آتی ہیں،مہینے بدلتے ہیں ،تو ان کے سنگ ان سے وابستہ مسرت بخش جھلکیاں ہوں یا غم انگیز مناظر؛ذہن کے پردے پہ سب آ موجود ہوتے ہیں،ان میں سرور افزا باتیں بھی ہوتی ہیں اور اعصاب شکن وارداتیں بھی، ولولوں کو دو آتشہ کرنے والی فتوحات بھی ہوتی ہیں اور حوصلوں کو پژمردہ کر جانے والی شکست و ریخت بھی،خوش کن واقعات بھی ہوتے ہیں اور الم ناک و ہول ناک سانحات وحادثات بھی!
’’ماہِ محرم‘‘ کاچاند افق پر اپنی جلوہ سامانیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہی ہمارے ذہنوں میں نواسۂ رسول،ابوتراب کے آنکھوں کی ٹھنڈک اور جگر گوشۂ زہرا :جناب سیدنا حسین (رضی اللہ عنہم) کی حیات بابرکات،ان کی ولادت باسعادت،نوخیزی و طفولیت،شباب عزت مآب ،ان کے پاکیزہ اطوار اور ان کی کتابِ زیست کی مقدس یادیں تازہ ہوجاتی ہیں،ان کے اوصافِ عالیہ و کمالاتِ غالیہ سے لے کے ان کی جرأ ت و بسالت،بہادری و جوان مردی اور شیر دلی وشجاعت کے بے مثیل نقوش سے پر شہادت کاذکر بر نوکِ زبان ہوا کرتا ہے اور ہونا بھی چاہیے کہ ظلم وجبر،کبرورعونت،اور تشدد و بربریت ؛سچائی وانصاف کو پا بہ جولاں،حق گوئی و بے باکی کی صدا کو خاموش اور عدل وصداقت کو پابندِ سلاسل کرنے پہ کمر بستہ ہوں، تو یہی وہ شمع فروزاں ہے، جویقین کو پختگی،عزم کو ثبات اور ارادوں کو استحکام کی روشنی عطا کرتی ہے۔
لیکن اس موقع سے یکم محرم کا شہید یا تو ہمیں یاد ہی نہیں آتا یایاد بھی آتاہے، تو اس کی یاد کی مقدار اتنی قلیل ہوتی ہے ،جو مذکورالصدر ہستی کے تذکرے کا عُشرِ عشیر بھی نہیں ہوتا،حال آں کہ اس حکم ران کاتذکرہ ہماری تاریخ کا بیش قیمت باب ہے، جس کے دس سالہ زمانۂ حکومت میں ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل خطۂ ارضی پر فتح کے جھنڈے نصب کئے گئے ،تاہم نہ مفتوحہ علاقوں میں بے قصوروں کا خون بہا، نہ ان پر ہتھیار اٹھائے گئے،نہ ان کے بچے نیزوں پر اچھالے گئے، نہ ان کے بوڑھوں کو ہراساں و دہشت زدہ کیا گیا،نہ ان کے املاک نذر آتش کیے گئے، نہ ان کی دو شیزاؤں پر دست درازی کی گئی،جس کے خوف سے وقت کے’’سُپر پاورز‘‘ کاپتہ پانی ہوجایاکرتاتھا،وہ اپنی جگہ جنبش کرتا، توسلاطین کے ایوانوں تک اس کی دھمک سنائی دیتی، جب کہ دوسری جانب اس کی سادگی و بے نفسی اور تواضع واستغنا کا یہ عالم تھاکہ نرم وگداز غالیچوں پر محو استراحت ہونے کے بہ جائے ہاتھوں کا تکیہ بنائے مسجد کے کسی گوشے میں ہی دراز ہو جاتا،اپنی رعیت کی خبر گیری و نگہہ بانی کی خاطر راتوں کی نیند تج دیتااور ضرورت پڑتی ،تو اپنی پشت پر غلے کی بوری لیے ضرورت مند تک پہنچانے میں بھی کوئی دریغ نہ کرتا،دورِ موجود کی جدید ترین مملکتوں نے جس کے طرزِ حکومت سے خوشہ چینی کرتے ہوئے عوامی فلاح وبہبود،بے روزگاری الاؤنس،حکومت کے کارندوں میں پرسش کاخیال،صاحبانِ مسند میں احساسِ جواب دہی،عدلیہ کی آزادی،نظامِ انصاف کی مضبوطی،رفاہی اداروں کے قیام اور ضعیفوں،ناداروں و بے آسراؤں کی نگہ داری کے نمونے حاصل کیے ہیں،جومرادِ رسول اور دعائے پیمبرؐہے،جس میں مالکِ دو جہاں نے صفاتِ نُبُوت ودیعت فرمائی تھیں کہ زبانِ حق ترجمان سے ارشاد ہوا’’میرے بعد کوئی نبی ہوتا ،تووہ عمر(رضی اللہ عنہ) ہوتا‘‘۔اس نے دستِ دعا اٹھاتے ہوئے مدینے میں شہادت طلب کی تھی، سو یکم محرالحرام کو قبول ہو کے رہی،آج امت کو پھر اسی عمر (رضی اللہ عنہ) کی حاجت ہے، جوہمیں یاد تو ہے، مگر اس درجے میں نہیں ،جتنا ہوناچاہیے تھا!
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں