اپنے مرکز سے بچھڑنے کی ضرورت کیا ہے



اپنے مرکز سے بچھڑنے کی ضرورت کیا ہے

اپنے ہاتھوں سے اُجڑنے کی ضرورت کیا ہے

 

باغِ تقوی و توکل ہو نظر سے اوجھل

ایسے مینار پہ چڑھنے کی ضرورت کیا ہے 


جن مضامین میں خوشبوءِ اکابر ہی نہ ہو

اُن مضامین کو پڑھنے کی ضرورت کیا ہے


اہلِ مغرب کی غلامی کو سعادت سمجھیں

ایسے دربار سے جُڑنے کی ضرورت کیا ہے


علم و عرفاں کے سمندر سے کنارہ کرکے

اپنے کنوئیں میں سُکڑنے کی ضرورت کیا ہے


اپنی غلطی کو ترقی کی رِدا پہنا کر

اپنے اسلاف سے بڑھنے کی ضرورت کیا ہے


فتنہ پرور کے اشارے پہ اپنی فکر و فہم

جلد بازی میں جھکڑنے کی ضرورت کیا ہے


جس ترقی سے اکابر کی دعائیں نہ ملیں

اُس ترقی پہ اَکڑنے کی ضرورت کیا ہے


فکرِ اُمت کو بدلتے ہیں فکرِ مِلت میں

ایسے جھنجھال میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے


علم و حکمت سے مزین ہیں اکابر اپنے 

دامنِ غیر پکڑنے کی ضرورت کیا ہے


جن سے بہتان و عداوت کے جِن نکلتے ہوں

اُن چراغوں کو رگڑنے کی ضرورت کیا ہے


جن بزرگوں کو بزرگوں نے بڑا سمجھا ہے

اُن بزرگوں سے جھگڑنے کی ضرورت کیا ہے


پُر فتن دور ہے ہُدہُد یہ پرندوں سے کہو

وادیِ خیر سے اُڑنے کی ضرورت کیا ہے


ہدہد_الہ_آبادی

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

filistin فلسطین