پھیکی عید
حضرت الاستاذ مولانا محمد انوار الحق داؤ نادم قاسمی حفظہ اللہ
استاذ حدیث مدرسہ عبداللہ ابن مسعود حیدرآباد
کا کلام جو حضرت نے کورونا کے زمانہ میں پہلی عید الفطر کے موقع سے قلم بند فرمایا تھا وہ آپ قارئین کے حوالے ہے
اگرچہ پھیکی سی عیداب کی، تمام دنیامنارہی ھے
مگر یہی بات سونےوالوں کوغفلتوں سےجگارہی ھے
جوسنّتِ شاہِ دیؐں سےہٹکرنئی ڈگر پرچلےہیں ابتک
نہ مل سکی انکوراہِ منزل، کتاب وسنّت بتارہی ھے
ہماری عیدیں،جگارہی ہیں محبّتوں کے حسین جذبے
یہ سُونی سُونی سی عید؛ لیکن ہماری ہمّت بڑھارہی ھے
ہمیں یہ فطرت سکھارہی ھےکہ گرکےاٹھناھےکامیابی
ہماری یہ تازہ عید سب کویہی سبق توسکھارہی ھے
مہِ مبارک میں بھی ہمارا یہ فاصلہ کم ہوانہ آخر
ھے کچھ نہ کچھ اس میں ایسی سازش، جسے یہ دنیاچھپارہی ھے
طِلِسمِ خوف و ہراس توڑو، عزیمتوں کےلباس پہنو
ادادکھاؤ!جہاں کواپنی،سداجوتیری ادارہی ھے
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں